بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مقصد مالی امداد نہیں بلکہ خود انحصاری ہے،سینیٹر روبینہ خالد

اسلام آباد : چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اصل مقصد مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے تاکہ وہ وقتی سہارا لے سکیں اور مستقل انحصار سے بچ سکیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اس وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے بینظیر ہنرمند پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کا افتتاح صدر آصف علی زرداری کریں گے۔

اس پروگرام کے ذریعے مستحق افراد کو ہنر مند بنا کر معاشی خود مختاری دی جائے گی۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں انہوں نے بتایا کہ فی الحال ایک کروڑ سے زائد خاندان BISP میں رجسٹرڈ ہیں اور نظام میں کچھ کمزوریاں ہوسکتی ہیں۔

تاہم رجسٹریشن کا عمل مکمل طور پر مفت ہے اور اس کے لیے نہ کوئی فارم درکار ہے اور نہ ہی کوئی فیس۔ رجسٹریشن صرف شناختی کارڈ کے ذریعے آن لائن یا دفتر میں کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایبٹ آباد کے دو بڑے رہنماؤں اور ان کے فیصلوں نے ہر کسی کو حیران و پریشان کر دیا

سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے عوام کو مالی سہولیات فراہم کی ہیں جس سے وہ اپنے کئی مسائل حل کر پاتے ہیں، لیکن اس پروگرام میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے تاکہ اس کی افادیت کو مزید بڑھایا جا سکے۔

یہ پروگرام پاکستان کے غریب اور مستحق طبقات کی مالی معاونت کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بینظیر ہنرمند پروگرام کے ذریعے یہ کوشش کی جائے گی کہ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور معاشی طور پر خود مختار بنیں۔

Scroll to Top