خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیتے ہوئے سیاسی منظرنامے کو ایک نئی سمت دے دیا ہے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ اگر مناسب وقت اور عددی برتری حاصل ہوئی تو تحریک عدم اعتماد ضرور لائی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا، 30 سے 35 ایم پی ایز آزاد حیثیت میں ہیں، ہمیں تو خدشہ ہے کہ کہیں خود پی ٹی آئی ہی علی امین گنڈاپور کے خلاف عدم اعتماد نہ لے آئے۔
نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی نیوز)کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈاپور کی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو درپیش مشکلات سنگین ہیں۔ انہوں نے کہا’’ناک کٹوانے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر مایوسی پھیلائی۔ پی ٹی آئی اب گلی محلوں تک محدود ہوچکی ہے اور پشاور میں جلسہ تک نہیں کر سکی۔‘‘
گورنر نے وزیر اعلیٰ پر الزام لگایا کہ وہ ’’وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے‘‘کی کوشش کر رہے ہیں، جو نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ خطرناک بھی۔ ان کے بقول’’وزیر اعلیٰ اپنے آقاؤں کی طرف دیکھتے ہیں، نہ کہ عوام کی طرف۔‘‘
فیصل کریم کنڈی نے حالیہ سوات حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے متاثرین نے بتایا کہ وہ دو گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن کوئی نہیں آیا۔ ’’یہ حکومت کی ناکامی ہے، جس نے نہ بروقت ریسپانس دیا اور نہ ہی حفاظتی اقدامات کیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ انکروچمنٹ کی اجازت کس نے دی اور متاثرہ علاقوں میں انتظامی غفلت کیوں برتی گئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ بیان خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں ہلچل کا باعث بن سکتا ہے اور اگر تحریک عدم اعتماد واقعی پیش کی گئی تو یہ صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔





