شور کی حساسیت کو اکثر ایک معمولی اور وقتی پریشانی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن حالیہ تحقیق اور ماہرین کی رائے کے مطابق یہ کیفیت دراصل دماغ، ذہن اور جسم پر دیرپا اثرات ڈالنے والی ایک سنجیدہ بیماری ہو سکتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات خبردار کر رہے ہیں کہ شور کی حساسیت ایک ایسا نفسیاتی و اعصابی عارضہ ہے جس میں متاثرہ فرد عام یا معمولی آوازوں کو بھی شدید ذہنی دباؤ، اضطراب اور چڑچڑے پن کا باعث محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق شور کی حساسیت نہ صرف دماغی انتشار اور اضطراب کو جنم دیتی ہے بلکہ یہ جسمانی علامات جیسے دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، پٹھوں میں کھچاؤ اور نیند کی خرابی کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شور کی حساسیت کو اب تک طبّی دنیا میں سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا زیادہ تر معالج اسے محض ایک ذہنی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں مریض برسوں تک اس تکلیف دہ کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ شور کی حساسیت سے نجات کے لیے ذہنی سکون کی مشقیں، ماحولیاتی کنٹرول اور کسی ماہر تھراپسٹ سے رجوع مفید ثابت ہو سکتا ہے، کچھ شدید کیسز میں ادویات کا استعمال بھی کارآمد پایا گیا ہے۔
شور کی حساسیت ایک خاموش لیکن تکلیف دہ حقیقت ہے جو کسی بھی فرد کی روزمرہ زندگی، تعلقات، نیند اور کام کی کارکردگی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ کیلا کھانے کے حیران کن فوائد
ماہرین کہتے ہیں کہ اس کیفیت کو سنجیدگی سے لینا اور بروقت تشخیص و علاج کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ متاثرہ فرد ایک بہتر، پُرامن اور متوازن زندگی گزار سکے۔





