بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی فضائی حدود بند کر دی تھیں جس سے ایوی ایشن شعبے کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق 24 اپریل سے 30 جون 2025 تک بھارتی پروازوں پر پابندی کے باعث پاکستان کی آمدن میں 4.1 ارب روپے کی کمی ہوئی۔
بھارتی وزیر ایوی ایشن نے کا کہنا ہے کہ رواں سال مختلف وجوہات کی بنا پر 2,458 پروازیں منسوخ یا دوبارہ شیڈول کی گئیں۔
پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بھارتی ایئرلائنز کو یورپ، برطانیہ، امریکا اور مشرق وسطیٰ جانے کے لیے طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑے جس سے ان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دوسرا دور صدارت مودی کے لئے ہزیمت کا سبب بن رہا ہے، امریکی اخبار
ایئر انڈیا کے مطابق شمالی امریکا اور یورپ جانے والی پروازیں اب لمبے روٹس پر مجبور ہیں جبکہ ایوی ایشن سروس سیریئم کے مطابق دہلی ایئرپورٹ سے ہفتہ وار تقریباً 300 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں جن میں ایندھن لاگت اور پرواز کے اوقات میں تبدیلی جیسے مسائل شامل ہیں۔





