باجوڑ ماموند میں کشیدگی، ممکنہ آپریشن کے پیش نظر عوام کی نقل مکانی شروع

خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند میں کشیدہ صورتحال کے باعث عوام کی بڑی تعداد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماموند میں ایک نیا سیکیورٹی آپریشن متوقع ہے جس کا اشارہ حالیہ دنوں میں امن جرگے اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی ناکامی سے ملا ہے۔

ذرائع کے مطابق باجوڑ امن جرگے اور طالبان کے درمیان سات نشستیں ہوئیں تاہم کوئی واضح نتیجہ نہ نکل سکا۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد جرگے کے سربراہ اور امیر جماعت اسلامی نے میڈیا سے گفتگو میں فریقین سے عوامی نقصان سے گریز کی اپیل کی جس کے بعد مقامی آبادی نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے نقل مکانی شروع کر دی۔

نقل مکانی کرنے والے متاثرین نے عنایت کلے، پاٹک، تحصیل خار، تحصیل سلارزئی اور دیگر مضافاتی علاقوں میں کرائے کے گھروں، سرکاری سکولوں اور کالجوں میں عارضی رہائش اختیار کر لی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے اب تک 107 تعلیمی ادارے متاثرین کے لیے خالی کروا دیے ہیں، باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں 500 خیموں پر مشتمل ایک امدادی کیمپ بھی قائم کر دیا گیا ہے جس میں اب تک 70 سے زائد متاثرہ خاندان منتقل ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں 10 روزہ مذاکرات ناکام،جرگہ بے نتیجہ،آپریشن ناگزیر قرار

موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق کی زیر صدارت اجلاس بھی ہوا جس میں ضلعی انتظامیہ، مقامی این جی اوز، فلاحی اداروں، ہلالِ احمر اور محکمہ تعلیم کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

Scroll to Top