اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت نہ کوئی آئینی نظام باقی رہا ہے، نہ قانونی، بلکہ عملاً مارشل لا نافذ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے دباؤ پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس سے ملک تیزی سے انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جو شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکلا برادری اس ترمیم کے خلاف تحریک کا آغاز کر رہی ہے، اور ہم نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمان کے اندر اور باہر تمام دستیاب فورمز کو استعمال کیا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر اسد قیصر نے وضاحت کی کہ ان کا نام زیر غور ہونے کی خبریں درست نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عمر ایوب جلد واپس آئیں گے اور وہی قائد حزب اختلاف کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
اسد قیصر نے عمران خان کے مقدمات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کیسز کو میرٹ پر سنا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ و قومی اسمبلی کو نااہل کر کے عدالتی نظام کو تماشہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تحریک انصاف اپنی سیاست خود کیسے داؤ پر لگا رہی ہے؟ عطا تارڑ نے بھانڈا پھوڑ دیا
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پارلیمنٹیرینز کو جیل کا دورہ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں انہیں اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو کہ خلاف قانون ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام فیصلے انتظامیہ کے دباؤ کے تحت کیے جا رہے ہیں، اور اگر مقدمات کو شفاف طریقے سے چلایا جائے تو ان میں کچھ نہیں بچتا۔
اسد قیصر نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات ملک کو شدید سیاسی و آئینی بحران کی طرف لے جا سکتے ہیں۔





