باجوڑ میں آپریشن کے پیشِ نظر مزید 24 دیہات خالی کرنے کا حکم

عباس خان

باجوڑ میں دہشتگردوں کے خلاف جاری سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے مزید 24 دیہات کے مکینوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام مقامی آبادی کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملنگی، سپرے، دواوگئی، مینہ سلیمان خیل، خوڑچئی، چمیار جوڑ، ذگئی، گٹ، اگرہ، غنڈئی، زرے، نختر، ملا کلے اور بکرو سمیت دیگر دیہات کے رہائشی 16 اگست 2025 کی صبح 10 بجے تک اپنے گھر قلیل مدت کے لیے خالی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

اس کے علاوہ گواٹی، چمیالوں، لر کلان، بر کلان، غنم شاہ، چوترا، ڈمہ ڈولہ، سلطان بیگ، انعام خورو اور انگا کے رہائشیوں کو بھی فوری انخلاء کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان سیلاب اور وبائی امراض کی لپیٹ میں، ہزاروں افراد متاثر

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے باجوڑ میں جاری سکیورٹی آپریشن سے متاثرہ افراد کے لیے 5 ارب روپے کے امدادی فنڈ کی منظوری دے دی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے یہ اعلان سول سیکرٹریٹ پشاور میں یومِ آزادی کی پرچم کشائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس کا مقصد علاقے کو دہشتگرد عناصر سے پاک کرنا اور امن قائم کرنا ہے،کچھ مقامی افراد اپنی سیکیورٹی کے پیش نظر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں، تاہم حکومت ان کے تحفظ اور امداد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

شہاب علی شاہ نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے باجوڑ آپریشن کے متاثرین کی فوری بحالی کے لیے 5 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے تاکہ ان کی مشکلات کم ہوں اور وہ جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ضم شدہ اضلاع میں موجودہ حالات ہمسایہ ممالک کے اثرات کا نتیجہ ہیں لیکن صوبائی حکومت اور سیکیورٹی ادارے باہمی تعاون سے پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

چیف سیکرٹری نے امید ظاہر کی کہ باجوڑ میں جلد امن بحال ہو جائے گا، اور متاثرہ خاندانوں کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

Scroll to Top