شبقدر:چارسدہ تحصیل شبقدر میں بھکاریوں کی روز افزوں تعداد نے شہریوں اور تاجر برادری کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
علاقے کے مختلف بازاروں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر بھکاریوں کی بھرمار اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ یہ صورتحال ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر درجنوں بھکاری، خصوصاً خواتین اور بچیاں، شہر کے مختلف مقامات پر بھیک مانگتی نظر آتی ہیں۔
گزشتہ روز ختم نبوت چوک میں صرف 10 منٹ کے دوران تقریباً 20 خواتین اور بچیاں بھیک مانگنے کے لیے وقفے وقفے سے کھڑی ہوئیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ انفرادی نہیں بلکہ منظم گروہوں کی کارستانی معلوم ہوتی ہے۔
شہریوں کے مطابق یہ خواتین و بچیاں مبینہ طور پر پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں، اور شبقدر میں مختلف اوقات میں آ کر بازاروں، دکانوں، اور گاڑیوں کے قریب شہریوں سے زبردستی بھیک مانگتی ہیں۔ ان کے اس انداز نے عوام کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
تاجر برادری اور مقامی آبادی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان منظم بھکاری گروہوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : سوات کے کانجو میں آسمانی بجلی گرنے سے بجلی کا نظام درہم برہم
عوام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ مخصوص مقامات پر ڈیرہ ڈال کر نہ صرف عوام کو ہراساں کرتے ہیں بلکہ بچوں اور خواتین کو بھی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ان بھکاریوں کا اندراج کرے اور ان کے اصلی علاقوں کی تصدیق کی جائے۔اگر یہ افراد بیرونی علاقوں سے آئے ہیں تو انہیں فوری طور پر واپس بھیجنے کے اقدامات کیے جائیں۔
سماجی بہبود کے ادارے اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ ایسی بچیوں کی فلاح و بہبود کے لیے فوری حکمتِ عملی تیار کریں۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ نہ صرف عوامی زندگی میں مزید خلل پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں سماجی بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔





