بارش اور سیلاب نے کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا کر کسانوں کو پریشان کر دیا

ملک بھر میں جاری موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث کاٹن زونز میں کپاس کی فصل شدید متاثر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں 2025-26 کے کاٹن ایئر میں بہترین پیداوار کے حصول کے خواب دھندلے ہو گئے ہیں۔

زراعتی ماہرین اور کاٹن جنرز فورم کے مطابق موسمی حالات نے کپاس کی نمو کو روک دیا ہے اور ممکنہ طور پر ملک کی کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پنجاب اور سندھ کے اہم کاٹن زونز میں غیر متوقع بارشوں اور رات کے وقت درجہ حرارت میں اضافے کے باعث کپاس کی فصل میں حبس اور وائرس کے حملے کے آثار نمایاں ہو گئے ہی،جو پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں کپاس کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جہاں تقریباً 40 فیصد فصل ضائع ہو چکی ہے اور مزید بارشوں اور سیلاب کے باعث نقصانات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مزید برآں پنجاب کے زیر زمین میٹھے پانی والے علاقوں میں جنہیں مقامی زبان میں کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے، گنے کی فصل کی بڑھتی ہوئی پیداوار سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کپاس کی فصل پر وائرس کا حملہ بھی زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ کی خاتون صحافی فرض راہ میں زندگی کی بازی ہار گئیں

سندھ کے کچھ علاقوں میں بھی وائرس حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے باعث کپاس کی فصل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

بارشوں اور سیلاب کے بعد ہی کپاس کی فصل کو پہنچنے والے نقصانات کا درست اندازہ لگانا ممکن ہو گا، تاہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر زرعی شعبے کو فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کپاس کی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے اور کسانوں کے مالی نقصان کو کم کیا جا سکے۔

یہ صورتحال ملک کی معیشت اور خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ کپاس کی فصل ملکی صنعتوں کی بنیاد ہے اور اس کی پیداوار میں کمی سے برآمدات متاثر ہونے کا امکان ہے۔

Scroll to Top