حکومت پاکستان نے ملک میں مقیم افغان شہریوں کی واپسی بارے یکم ستمبر 2025 کی حتمی تاریخ مقرر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کیخلاف آپریشن شروع کیا جائیگا۔
اس فیصلے کے تحت صرف غیر قانونی افغان شہری ہی نہیں، بلکہ وہ افراد بھی واپسی کے پابند ہوں گے جن کے پاس پی او آر یا افغان سٹیزن کارڈ موجود ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان دستاویزات کی مدت مکمل ہو چکی ہے، اس لیے تمام افغان شہریوں کو رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانا ہوگا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد، سکیورٹی خدشات، اور وسائل پر دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔ حکام نے مزید وضاحت کی کہ ملک میں صرف انہی افراد کو قیام کی اجازت دی جائے گی جن کی قانونی حیثیت مکمل طور پر تصدیق شدہ ہوگی۔
حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کا عمل مکمل طور پر باعزت، محفوظ اور منظم ہوگا۔ کسی بھی افغان شہری کے ساتھ زبردستی، بدسلوکی یا غیر انسانی سلوک سے گریز کیا جائے گا۔ انخلا کے دوران افغان شہریوں کے لیے خوراک، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کا بھی مکمل بندوبست کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، اس اقدام سے نہ صرف ملکی سلامتی میں بہتری آئے گی بلکہ رجسٹریشن اور نگرانی کے نظام کو بھی زیادہ مؤثر بنایا جا سکے گا۔ غیر قانونی قیام نہ صرف سکیورٹی کے لیے خطرہ بن چکا تھا بلکہ اس سے معاشی اور سماجی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو اندرونی و بیرونی سکیورٹی چیلنجز، معاشی دباؤ اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کی اولین ترجیح قانون کی بالادستی، شہریوں کا تحفظ اور قومی مفاد کا تحفظ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





