پاکستان پڑوسیوں سے مستحکم تعلقات کا خواہاں، شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں خطاب

پاکستان پڑوسیوں سے مستحکم تعلقات کا خواہاں، شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے اور اپنے تمام پڑوسیوں سے معمول کے مستحکم تعلقات چاہتا ہے، تاہم انتہا پسندی اور دہشتگردی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایس سی او کی شاندار میزبانی اور بھرپور انتظامات پر صدر شی جن پنگ اور حکومت چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ازبکستان اور کرغزستان کو یوم آزادی کی مبارکباد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او علاقائی تعاون اور انضمام کے فروغ کے لیے پاکستان کے دیرپا عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

شہباز شریف نے چین کی کامیابیوں کو صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ چین کی عالمی قیادت نہ صرف ایس سی او بلکہ دیگر اہم عالمی اقدامات میں بھی واضح نظر آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی، مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی ملک کے لیے خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے تمام اراکین اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور تمام بین الاقوامی و دوطرفہ معاہدوں کا پاسدار ہے۔

انہوں نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو دونوں ممالک کے درمیان بہترین منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ اور ایس سی او کے چارٹرز پر مکمل عمل پیرا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کی بلاجواز جارحیت کی شدید مذمت کی اور غزہ میں جاری ظلم و ستم کو انسانی ضمیر پر گہرا زخم قرار دیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منظور شدہ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں میں بیرونی مداخلت کے ثبوت موجود ہونے کی نشاندہی کی اور کہا کہ دہشت گردی کے گھناؤنے جرائم کے ذمہ دار اور ان کے سہولت کار جواب دہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ ملکی سلامتی کے لیے جاری رہے گا۔

Scroll to Top