وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کالا باغ ڈیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا قومی نوعیت کا منصوبہ سیاست کی نذر ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔
اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’’کالا باغ جیسا ڈیم نہ بنانا ملک اور نسلوں کے ساتھ زیادتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ اور خیبرپختونخوا کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اور تمام فریقین کو میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق، سندھ کو کالا باغ ڈیم پر تحفظات ہیں، مگر انہیں گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ’’یہ ملک کی بنیادی ضرورت ہے، اور اسے سیاست کی نذر کرنا زیادتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کوئی صوبہ مالی تعاون پر آمادہ نہیں، تاہم ’’میں خود تیار ہوں کہ کسی بھی ذریعے سے پیسے فراہم کروں، لیکن ملک کے مفاد میں یہ منصوبہ مکمل ہونا چاہیے۔‘‘ علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے پنجاب نے تعاون نہیں کیا۔
سیلاب کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مریم نواز نے سیلاب کے دوران فون کیا، جس پر انہوں نے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’سیلاب جیسے قدرتی آفات کے موقع پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہم نے پنجاب کو امداد کی پیشکش کی ہے۔‘‘
ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’’ملک میں نہ آئین ہے نہ قانون، یہاں صرف انتقامی سیاست جاری ہے، سیاست کا حقیقی وجود ختم ہوچکا ہے۔‘‘گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے کئی بار کنڈی کو پیغام دیا کہ آئینی حدود میں رہیں اور سیاست نہ کریں، ’’گورنر کو خیبرپختونخوا سے نکال سکتا ہوں، اسلام آباد ہاؤس میری حکومت کی ملکیت ہے، میں نے فیصل کریم کو وہاں سے نکالا اور وہ آج تک واپس نہیں آ سکے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پاکستان میں 95 فیصد سیاستدان صرف سرکاری پیٹرول، گاڑی اور سیکیورٹی گارڈ پر مرتے ہیں، گورنر فیصل کریم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔‘‘





