اہم یورپی ملک اسرائیل کے خلاف میدان میں آگیا

اہم یورپی ملک اسرائیل کے خلاف میدان میں آگیا

یورپ کے اہم ملک سپین نے اسرائیل کے خلاف کھل کر مؤقف اختیار کر لیا ہے، روس پر یوکرین حملے کے بعد جس طرح عالمی برادری نے کھیلوں کے میدان میں سخت مؤقف اپنایا تھا سپین اب اسی اصول کا اطلاق اسرائیل پر بھی چاہتا ہے۔

سپین کی وزیرِ کھیل پلر ایلگریا نے کہا ہے کہ جس طرح روسی ٹیموں کو عالمی مقابلوں سے نکالا گیا ویسا ہی سلوک اسرائیل کے ساتھ بھی ہونا چاہیے، اُن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے اپنایا جانے والا دوہرا معیار اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

معروف سائیکلنگ ایونٹ ویولٹا آ ایسپانیا میں اسرائیلی ٹیم اسرائیل پریمیئر ٹیک کی موجودگی سپین بھر میں احتجاج کی لہر لے آئی ہے، سپین کی حکومت نے اسرائیل کے غزہ پر حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے اور اسی بنیاد پر کھیل کے میدان میں بھی سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سپین کی وزیرِ کھیل پلر ایلگریا کا کہنا ہے کہ یہ سمجھانا اور سمجھنا مشکل ہے کہ ایک طرف روس پر سختیاں اور دوسری طرف اسرائیل کو چھوٹ دی جائے حالانکہ صورتحال کہیں زیادہ ہولناک ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ روسی کھلاڑی صرف غیر جانبدار پرچم تلے ہی عالمی مقابلوں میں شریک ہو سکتے تھے بغیر قومی ترانے یا شناخت کے تو یہی اصول اسرائیل پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو چند گھنٹوں میں قابو پانے کی صلاحیت پاکستان کے پاس ہے، مولانا فضل الرحمان

پلر ایلگریا کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ ریس مکمل ہو لیکن جو احتجاج ہم دیکھ رہے ہیں وہ میری نظر میں مکمل طور پر منطقی ہیں، اگر ریس مکمل نہ ہو سکی تو یہ بدقسمتی ہوگی مگر خاموش رہنا اس سے بھی بڑی بدقسمتی ہے۔

Scroll to Top