اسلام آباد: ملک بھر میں چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام اقدامات مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔
درآمدات کی اجازت، ریٹیل قیمتوں کے تعین اور مختلف انتظامی دعوؤں کے باوجود چینی کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، چینی کی اوسط قیمت میں 2 روپے 65 پیسے فی کلو کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں اوسط نرخ بڑھ کر 184 روپے 1 پیسہ فی کلو تک جا پہنچا ہے۔
کراچی کے شہری ملک میں سب سے زیادہ قیمت پر چینی خریدنے پر مجبور ہیں، جہاں اس کی قیمت 195 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے چینی کی اوسط قیمت 181 روپے 36 پیسے تھی، جو اس ہفتے نمایاں اضافے کے بعد بڑھ گئی ہے۔
اگر گزشتہ سال کے اعدادوشمار سے موازنہ کیا جائے تو تب چینی کی اوسط قیمت 142 روپے 28 پیسے فی کلو تھی، یعنی سالانہ بنیاد پر قیمت میں 40 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
پنجاب میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 190 روپے فی کلو تک ریکارڈ کی گئی ہے، حالانکہ گزشتہ ماہ حکومت نے چینی کی سرکاری ریٹیل قیمت 175 روپے فی کلو مقرر کی تھی، جو اب بھی مارکیٹ میں نظر نہیں آ رہی۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیاکپ ، پاکستان کا عمان خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
تجزیہ کاروں کے مطابق چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے صرف اعلانات نہیں بلکہ سخت عملی اقدامات اور مانیٹرنگ کی ضرورت ہے، ورنہ عام صارف پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھتا جائے گا۔





