جام شورو اور بولاخان میں برساتی ریلے تباہی کا باعث، کئی علاقے زیرِ آب آ گئے

جام شورو: دریائے سندھ کے قریب واقع شہر جام شورو کے قریب پہاڑی نالوں سے آنے والے برساتی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے باعث تحصیل بولاخان کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔

برسات کے باعث شہریوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، بجلی اور گیس کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ لوگوں کا مال و اسباب پانی میں ڈوب گیا ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث علاقہ مکینوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

نوشہرو فیروزدریائے سندھ میں کمال ڈیرو کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں سوار پانچ افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند کے قریب کچے کے علاقے میں سیلابی صورتحال بدستور برقرار ہے، جس کے باعث مزید دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے سندھ کے گڈو بیراج پر 14 اور 15 ستمبر کے دوران شدید سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے اور متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کی آبی جارحیت، پاکستان میں سیلابی صورتحال بدستور برقرار

سکھر بیراج پر بھی آئندہ چند روز میں شدید سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر کچے کے 13 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ شہری علاقوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ کوٹری بیراج کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

Scroll to Top