پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی رہائی کے لیے ان کے صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان نے عالمی سطح پر ایک بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ سے باضابطہ رجوع کر لیا ہے۔ دونوں بھائیوں نے اقوام متحدہ کے اسپیشل نمائندہ برائے تشدد کے سامنے ایک اپیل دائر کی ہے جس میں ان کے والد کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو عالمی قوانین کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہیں ناقص خوراک دی جا رہی ہے، بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے اور مسلسل نگرانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپیل میں اقوام متحدہ سے فوری مداخلت اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
قاسم خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا’’میرے والد کو جمہوریت کے لیے کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہیں تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، ڈاکٹرز اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ سیاسی انتقام ہے، انصاف نہیں۔ پاکستان کی جمہوریت خطرے میں ہے اور دنیا کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔‘‘
سیاسی حلقوں میں اس اقدام کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اپیل حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس وقت چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ حکومت اس پیش رفت پر کیا مؤقف اختیار کرے گی۔
ادھر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما زلفی بخاری نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے تشدد کو باضابطہ اپیلیں جمع کرا دی گئی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی قیدی کی اہلیہ کو بھی قید کیا گیا ہو۔’’ہم ہر عالمی و مقامی پلیٹ فارم پر غیر قانونی قید اور غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ قوم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے اور کبھی ہار نہیں مانے گی۔‘‘
زلفی بخاری کے مطابق، بشریٰ بی بی کے لیے اپیل ان کی بہن مریم وٹو نے جمع کرائی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی محکمہ خارجہ پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کی صحت و سلامتی پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں، اور اب اقوام متحدہ سے باضابطہ اپیل نے بین الاقوامی توجہ اس معاملے کی جانب مزید مرکوز کر دی ہے۔





