ایشیا کپ 2025 کے سب سے زیادہ زیر بحث میچ، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونیوالے ٹاکرے میں کھیل کے بنیادی آداب پامال ہو گئے۔ دبئی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقابلے میں بھارتی ٹیم کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے کا واقعہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔
میچ سے قبل ٹاس کے موقع پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے حالیہ بھارتی سوشل میڈیا کا دباؤ کارفرما ہے، جب یادو نے چند روز قبل دبئی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ہاتھ ملایا تھا، جس پر بھارت میں ان پر شدید تنقید کی گئی۔
میچ کے اختتام پر بھی بھارتی کھلاڑیوں نے روایتی ہینڈ شیک سے گریز کیا اور جیت کے بعد فوراً ہی ڈریسنگ روم میں چلے گئے۔ پاکستانی کپتان اور کوچ مائیک ہیسن بھارتی کیمپ تک گئے، مگر کوئی بھارتی کھلاڑی باہر نہ آیا۔
کوچ مائیک ہیسن نے اس رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ہم کھیل کے اختتام پر روایتی ہینڈ شیک کے لیے تیار تھے، لیکن افسوس کہ بھارتی کھلاڑی پہلے ہی جا چکے تھے۔ یہ میچ ختم کرنے کا ایک افسوسناک طریقہ تھا۔‘‘دوسری جانب سوریا کمار یادو نے پریس کانفرنس میں ہاتھ نہ ملانے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا’’کچھ چیزیں اسپورٹس مین شپ سے بھی بڑھ کر ہوتی ہیں۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی ٹیم پر نہ صرف اندرونی دباؤ تھا بلکہ حالیہ پاک-بھارت فوجی کشیدگی اور بھارتی فضائی ناکامیوں نے بھی ماحول کو سخت بنا دیا۔ اسی تناؤ نے شاید بھارتی ٹیم کے رویے پر بھی اثر ڈالا۔
کرکٹ کے شائقین اور مبصرین نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کہ کھیل کے میدان کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے اور ایسے واقعات کرکٹ کی روح کو متاثر کرتے ہیں۔





