ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی کے علاقے لوندخوڑ کے عوامی جرگہ نے ٹائپ ڈی ہسپتال کی آؤٹ سورسنگ کو مسترد کر دیا۔
علاقائی عمائدین نے کہا کہ لوند خوڑ ہسپتال کی تعمیر ہمارے بزرگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی اراضی پر بنادی تھی، حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں۔صوبائی مشیر صحت احتشام خان ایڈوکیٹ اور صوبائی حکومت ہوش کا ناخن لیں۔
لوند خوڑ یونین کونسل بلڈنگ میں لوندخوڑ عوامی جرگہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس کی نگرانی ناظم نیاز حسین، انجنئیر ارشد خان اور مولانا نصیر احمد نے کی، جبکہ عوامی جرگہ کی صدرات پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی سینئر نائب صدر نسیم محمد خان لوندخوڑ نے کی۔
جرگہ سے نسیم محمد خان، سابق ایم پی اے حاجی بہادر خان، شاہد خان، سابق ناظم میاں عیسیٰ حاجی سجاد خان، فیاض علی خٹک، ملک نواب علی شاہ ڈھنڈ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما جمال ناصر خان میاں عیسیٰ ، ملک حزب اللہ، انجینئر ارشد خان، ناظم نیاز حسین، جہانزیب جیالا، جے یو آئی میاں عیسیٰ کے امیر مولانا نصیر احمد اور سابق تحصیل کونسلر حاجی تازہ گل نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت عوام کے مسائل کے حل میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے تاریخی قرضہ لے کر صوبے کا بیڑا غرق کردیا اور کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔ قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے، نوکریوں پر بولیاں لگی ہوئی ہیں، اب اداروں کو بیچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مفت تعلیم اور صحت ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ صوبائی حکومت نے ہزاروں تعلیمی اداروں اور 24 ہسپتالوں کو پرائیویٹائز کر دیا ہے جن میں لوندخوڑ ٹائپ ڈی ہسپتال بھی شامل ہے۔
لوندخوڑ عوامی جرگہ نے لوند خوڑ ہسپتال کی پرائیویٹائزیشن مسترد کر دی اور کہا کہ لوند خوڑ ہسپتال مشیر صحت اختشام خان ایڈوکیٹ اور ایم این اے انجنئیر علی محمد خان کا اپنا آبائی گاؤں کا ہسپتال ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمرہ زائرین کو جعلسازی سے بچانے کےلیے حکومت کا اہم اقدام
انہیں اس ہسپتال کو اپ گریڈ کرنا اور عوام کی سہولت کے لئے جدید آلات اور مفت ادویات کی فراہمی چاہیے تھی لیکن انہوں نے لوند خوڑ کے عوام سے صحت کی سہولیات چھیننے کی کوشش کی ہے جو کسی طور قبول نہیں۔
مقررین نے کہا کہ اس سلسلے میں ڈی ایچ او مردان سے ملاقات کریں گے۔





