پشاور کی سیشن عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ملک طارق اعوان کی جانب سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ خارج کر دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عالمگیر شاہ نے کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کیا۔
ملک طارق اعوان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کامران بنگش نے 2024 میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اُن پر قبضہ مافیا سے تعلق اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے، جو بے بنیاد اور من گھڑت تھے۔
ان کے مطابق ان بیانات سے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ انہیں سیاسی و سماجی طور پر بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیا کپ سپر فور مرحلہ :پاکستان اور بھارت کے درمیان کا ٹاکراکب اور کہاں ہوگا؟
عدالت نے کامران بنگش کے خلاف دائر دعویٰ ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔





