اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے جوابی بیان کے دوران بھارتی وفد کے ردِ عمل نے کشیدگی پیدا کر دی۔
پاکستانی دوسرے سیکرٹری محمد راشد نے بھارت کے اس رویے پر کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ بعض بیانات اور طرزِ عمل اقوامِ متحدہ کے آئینی شراکت اور شائستگی کے خلاف ہیں۔
محمد راشد نے کہا کہ ہم نے دوبارہ اس فورم پر بات کرنے کا ارادہ نہیں تھا مگر یہ انتہائی شرمناک ہے کہ بھارت اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ایک رکن ملک کا نام خراب کرنے کی کوشش کرے، ان کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ریاست کے نام کا مذاق اڑانا نہ صرف غیر مہذب ہے بلکہ پوری قوم کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
اجلاس کے دوران بھارتی صدر کو پریشانی کی کیفیت میں فون پر گفتگو کرتے دیکھا گیا اور چند منٹ بعد وہ صدمے میں اجلاس سے باہر روانہ ہو گئے، یہ منظر حاضرین کے درمیان سخت بحث کا باعث بنا، پاکستانی وفد نے اس ردِ عمل کو بھارتی کمزوری اور ثبوتوں کی عدم موجودگی سے جوڑا۔
راشد نے مزید کہا کہ ایسی زبان نہ تو ذمہ داری کی عکاس ہے نہ ہی بین الاقوامی سنجیدگی کی اور یہ زبان بھارت کی عالمی سطح پر چھوٹی سوچ اور مایوسی کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے بھارت اپنی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور دنیا کے سامنے اپنے مؤقف کی کمزوری ظاہر کر رہا ہے۔
پاکستان نے بھارت پر یہ بھی سنگین الزامات عائد کیے کہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد سرگرمیوں کی پشت پناہی اور معاونت میں ملوث رہا ہے اور معتبر رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ نیٹ ورکس خفیہ ایجنسیوں کے زیرِ انتظام ہیں جو ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستانی بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات بھارت کے انسدادِ دہشت گردی کے دعوؤں کی دوغلا پن ظاہر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اب تحریک چلانے کی قابل نہیں رہی، امیر مقام
پاکستانی وفد نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی فورم میں رہنماؤں اور نمائندگان کو سنجیدہ اور ذمہ دارانہ لہجہ اختیار کرنا چاہیے اور اختلافِ رائے کو نظریاتی اور منطقی دلائل کے ذریعے حل کرنا چاہیے طنز و تمسخر یا اقوام کی توہین کرنا قابلِ قبول نہیں۔





