چین کی شمال مشرقی صوبہ جیلن کی عدالت نے سابق وزیر زراعت اور دیہی امور تنگ رنجیان کو بھاری رشوت لینے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے سزا میں دو سال کی معطلی دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق تنگ رنجیان نے 2007 سے 2024 کے دوران اپنے مختلف عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروباری معاملات، منصوبوں کی ٹھیکہ داری اور ملازمتوں کی تبدیلی جیسے امور میں دوسروں کی مدد کی۔
اس دوران چین کے سابق وزیر نے مجموعی طور پر تقریباً 2.68 ارب یوان یعنی 37.5 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی رشوتیں اور قیمتی اشیاء وصول کیں۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کے اینٹی کرپشن ادارے نے پچھلے سال مئی میں تنگ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس کے بعد وہ وزارت زراعت اور دیہی امور کے عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:
چین کی حکومت نے کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور صدر شی جن پنگ کی قیادت میں پارٹی کے اندر نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔





