سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کھرچر فورٹ فتنہ الخوارج کا مرکز تھا جسے مؤثر کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر افغان فورسز کی جانب سے ایک بار پھر بلااشتعال اور بزدلانہ فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے جواب میں پاک فوج نے آہنی ہاتھوں سے دشمن کو ایسا سبق سکھایا کہ افغان طالبان لاشیں، چیک پوسٹیں اور اسلحہ چھوڑ کر میدانِ جنگ سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارام چاہ جیسے اہم مقامات پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کی گئی، جس کا مقصد فتنۂ خوارج اور داعش کے دہشت گردوں کو پاکستانی حدود میں داخل کروانا تھا۔
پاک فوج کی مستعد اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی نے نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا، بلکہ اُن کے محفوظ ٹھکانوں کو بھی نیست و نابود کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے افغان دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس تباہ کر دیے، سیکیورٹی ذرائع
ذرائع کا کہنا ہے کہ کھرچر فورٹ جو خوارج کے لیے ایک بڑا آپریشنل مرکز بن چکا تھا کو ہوش رُبا اور ہدفی کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغانستان کی کئی سرحدی پوسٹیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں اور درجنوں افغان اہلکاروں سمیت خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔





