پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے رکن نعیم حیدر پنجوتھہ نے گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استفعہ قبول کرکے واپس بھیجنے کی کوشش کو مسترد کیا ہے۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے گورنر خیبرپختونخوا کے اقدام کو “جعلی واردات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین نے گورنر کو ایسا اختیار نہیں دیا۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے اپنے بیان میں کہا کہ علی امین نے تحریری طور پر استعفیٰ دیا اور ویڈیو پیغام بھی جاری کیا گیا اور جب پہلی بار استعفیٰ پر بلاوجہ اعتراضات اٹھائے گئے تو علی امین نے دوسری مرتبہ بھی استعفیٰ دے دیا تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔
ان کا کہنا ہے پہلی بات آپ نے آئین کی کسی شق کا حوالہ نہیں دیا کیونکہ آئین نے آپ کو اعتراض لگا مسترد کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ دستخط پر اعتراض تب ہوتا ہے جب کوئی بندہ موجود نہ ہو، ویڈیو بیان کے بعد تو ضرورت ہی نہیں رہتی، انہوں نے کہا کہ جب واضح ویڈیو پیغام موجود ہے تو دستخط کی شکایت کیوں کی گئی اور سوال اٹھایا کہ اس طرزِ عمل کے پیچھے ڈرامے بازی کا مقصد کیا تھا۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے الزام لگایا کہ گورنر اور ان کے حمایتی دو دن کے لیے غیر دستیاب رہ کر پیسوں کی منڈی یا سیاسی کارروائی کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ خیال محض خواب ہے اور پی ٹی آئی اس معاملے کو تسلیم نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا
ان کا مزید کہنا تھ کہ تم سب ایک تھالی کے مہرے ہو، آئین شکن، آئینی طور پر گورنر کو کسی بھی عذر پر استعفیٰ واپس بھیجنے کا اختیار حاصل نہیں اور انہیں یہ قدم صبح کے انتخابات کے موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی چال کے طور پر قرار دیا۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے مزید کہا کہ صبح انتخابات ہو جائیں گے اور سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنیں گے سوچو روک سکو تو روک لو، سہیل آرہا ہے۔





