اسلام آباد : مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دھمکیاں دینے کے بجائے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے، موجودہ حالات میں سنجیدگی کا مظاہرہ ضروری ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے پیسے تقسیم کیے، اور ایسے افراد بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
اگر اُس وقت چیف جسٹس کے فیصلے پر عمل درآمد ہوتا تو آج کے حالات مختلف ہوتے۔
عابد شیر علی نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے، تو پھر احتجاج کی اب کیا ضرورت تھی؟ گزشتہ تین دنوں سے سڑکوں پر تماشا لگایا گیا، اور یہ واضح نہیں کہ تحریک لبیک کس کے خلاف لانگ مارچ کر رہی تھی۔
اگر کوئی یادداشت پیش کرنا مقصود تھی تو وفد کے ذریعے جا کر پیش کی جا سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف افغانستان کی جانب سے حملہ ہوا، اور دوسری طرف ٹی ایل پی سڑکوں پر تھی، ان حالات کے محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کی جانب سے افغانی پوسٹ کو تباہ کرنے کے بعد افغان طالبان نے سفید جھنڈا لہرا دیا
تحریک انصاف کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے، اور خیبرپختونخوا حکومت کو جذباتی اقدامات سے گریز کرنا ہوگا۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے زور دیا کہ ملک کو مزید بحرانوں سے نکالنے کے لیے سب جماعتوں کو سنجیدہ اور ذمے دارانہ طرز عمل اپنانا ہوگا۔





