آزاد کشمیر میں سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی آئی ہے ، پاکستان تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے پانچ وزرا نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے وزرا کی شمولیت کے ساتھ ہی پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کے لیے اپنے نمبر مکمل کر لیے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیر ہی حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریت حاصل کر لی ہے، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے وزرا فہیم اختر ربانی، محمد عاصم شریف، چوہدری محمد اکبر اور عبدالماجد خان نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، آزاد کشمیر کے وزیر اعلیٰ تعلیم ظفر اقبال ملک بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔

چودھری یاسر سلطان، سردار محمد حسین، چودھری محمد اخلاق، چودھری ارشد حسین اور چودھری رشید نے بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ کی تعداد اب 23 تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان گروپ کے 6 اراکین اسمبلی نے چودھری لطیف اکبر کو وزیرِاعظم نامزد کرنے کی شرط پر پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون یا شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔
فریال تالپور سے ملاقات کے بعد یہ سیاسی فیصلے سامنے آئے ہیں جو آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو ہٹانے کا فیصلہ، وفاق پر کیا اثر پڑے گا؟
یاد رہے گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں نئی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے صدر پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد کی منظوری دی۔
صدر زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر اسلام آباد میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت میں تبدیلی اور نئی کابینہ قائم کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چودھری یاسین کا کہنا تھا کہ پارٹی نے نئی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور بلاول بھٹو زرداری خود نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان کریں گے۔
سردار تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ چونکہ مسلم لیگ ن وفاقی حکومت میں ہے اس لیے آزاد کشمیر کی کابینہ میں شمولیت پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دو بڑی سیاسی قوتیں ہیں اور یہاں کی حکومت پر اکثر وفاقی سیاسی حالات کا اثر پڑتا ہے۔





