خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں صحت کارڈ پر معطل طبی سہولیات بحال

سلمان یوسفزئی 

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں صحت کارڈ پر معطل کی گئی طبی سہولیات بحال کر دی گئی ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد کے ٹی ایچ میں صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت آج سے دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

ہسپتال کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ سروسز کی عارضی معطلی کے دوران تعاون اور سمجھ بوجھ پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال انتظامیہ نے انشورنس کمپنی کی جانب سے تقریبا ایک سال کے بلز کی ادائیگیاں نہ ہونے پر تمام شعبوں میں صحت کارڈ پر علاج معطل کر دیا تھا۔

سروسز بند ہونے کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور متعدد مریض دیگر ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

صحت کارڈ سہولت کی بحالی کے بعد ایک بار پھر مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم ہونا شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

صوبہ خیبر پختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیکے پر دینے کے حکومتی فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

یہ رٹ معروف قانون دان عباس خان سنگین ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام غریب عوام کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔

رٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرے۔

درخواست میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 38(D) کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ شق ہر شہری کو مفت صحت سہولیات کی ضمانت دیتی ہے۔

رٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتالوں کو ٹھیکے پر لینے والا ٹھیکیدار ممکنہ طور پر چیک اپ فیس، پرچی، اور دیگر خدمات کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا۔

درخواست میں عدالت سے استدعاکی گئی ہے کہ وہ حکومت کو فوری طور پر نجکاری سے روکیں ۔

Scroll to Top