غزہ: اسرائیلی فوج کی بمباری سے بے گھر ہونے والے فلسطینی شہری شدید سردی اور ناقص حفاظتی سہولیات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ شدید سردی کے باعث ایک اور نو مولود بچے کی موت ہو گئی، جبکہ رہائش، ایندھن اور بنیادی سہولیات کی کمی بچوں اور بزرگوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بھی غزہ میں بچوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
فلسطین میں یونیسیف کے کمیونیکیشن چیف جوناتھن کرکس نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ بچے بارش کے پانی سے بھرے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، کمبل بھیگ چکے ہیں اور بچوں کے پاس صرف ایک یا دو کپڑوں کے جوڑے ہیں، جس سے انہیں خشک رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال میں بیماریوں کے پھیلنے کے شدید خطرے کی بھی وارننگ دی۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی سیکریٹری اطلاعات کو پی ٹی وی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کہا کہ حالیہ طوفانوں میں ہونے والی اموات صرف خراب موسم کی وجہ سے نہیں بلکہ اسرائیل کی جانب سے پناہ اور مرمت کے سامان کی فراہمی روکنے کا نتیجہ ہیں۔
ادھر شاطی پناہ گزین کیمپ میں شدید سردی اور بمباری کے باعث ایک گھر کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 6 افراد ملبے تلے دب گئے، تاہم ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو محفوظ نکال لیا۔
یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے، جہاں نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ ہے بلکہ بچوں کی زندگیوں پر بھی براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔





