دنیا بھر میں چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ جاری

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر تک دنیا بھر میں تقریباً 5 لاکھ 2 ہزار 264 چکن گونیا کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اس بیماری کا خطرہ درمیانہ ہے، جس کی وجہ 2025 کے سیزن میں کئی خطوں میں کیسز کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ نئے جغرافیائی علاقوں میں کیسز کے ابھرنے اور دوبارہ نمودار ہونے کی وجوہات میں قابل ایڈیز مچھر کی موجودگی، محدود آبادی کی قوت مدافعت، سازگار ماحولیاتی حالات، اور انسانی نقل و حرکت میں اضافہ شامل ہیں۔

چکن گونیا زیادہ تر گرم اور نیم گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی علامات میں اچانک بخار، شدید جوڑوں اور پٹھوں کا درد، سر درد اور خارش شامل ہیں۔

بعض افراد میں جوڑوں کا درد مہینوں یا سالوں تک برقرار رہ سکتا ہے، جس سے طویل مدتی معذوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سال اب تک دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے 5 لاکھ 2 ہزار 264 کیسز میں سے:

2 لاکھ 8 ہزار 335 تصدیق شدہ کیسز
2 لاکھ 9 ہزار 929 مشتبہ کیسز

یہ کیسز 41 ممالک اور علاقوں میں رپورٹ ہوئے، اور عالمی سطح پر 186 اموات بھی درج کی گئی ہیں۔

خطوں کے لحاظ سے کیسز اور اموات کا خلاصہ:

امریکہ: 2 لاکھ 91 ہزار 451 کیسز، 141 اموات
جنوب مشرقی ایشیا: 1 لاکھ 15 ہزار 985 کیسز، 0 اموات
یورپ: 56 ہزار 986 کیسز، 43 اموات
مغربی پیسفک: 34 ہزار 35 کیسز، 2 اموات
افریقہ: 2 ہزار 211 کیسز، 0 اموات
مشرق وسطیٰ: 1 ہزار 596 کیسز، 0 اموات

یہ بھی پڑھیں : پشاور، رورل ہیلتھ سینٹر میں زچگی اور نوزائیدہ بچوں کے نئے یونٹ کا افتتاح

امریکہ کے خطے میں برازیل نے 2 لاکھ 43 ہزار 915 کیسز اور 116 اموات میں حصہ ڈالا، جو اس خطے کے کل کیسز کا 84 فیصد اور اموات کا 82 فیصد بنتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے مزید واضح کیا ہے کہ اگرچہ مجموعی شرح اموات دیگر آر بو وائرسز کے مقابلے میں کم ہے، تاہم شدید بیماری اور پیچیدگیوں کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر نومولود بچوں، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور پہلے سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں۔

Scroll to Top