سابق وفاقی وزیر اور ن لیگ کے سابق رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی پارٹی اقتدار میں آنے کے باوجود عوامی مسائل حل ہوتے نہیں دکھائی دیتے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دعوے کیے گئے کروڑوں روزگار کے مواقع حقیقت میں عوام کو نظر نہیں آتے اور اعداد و شمار الٹی کہانی سنا رہے ہیں۔
دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور سندھ میں یہ شرح 7 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا میں 9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
سابق وزیر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے مضبوط اضلاع میں بھی عوام شدید مایوس ہیں اور لوکل گورنمنٹ کا نظام خیبرپختونخوا اور پنجاب میں محدود اور ناکافی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ انتخابات کا نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہا اور انتظامیہ کی ناکامی کے باعث عوامی مسائل حل نہیں ہو پاتے۔
دانیال عزیز نے کہا کہ گزشتہ 15 سال میں بنیادی سروسز میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی اور ترقیاتی منصوبے اکثر فنڈنگ اور زمینی مسائل کی وجہ سے مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور انتظامیہ عوامی مفاد کی بجائے اپنی پوزیشن پر فوکس کر رہی ہیں اور اکثر اپنے منشور اور وعدے پورے نہیں کرتیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی امیدیں دم توڑ گئیں! ’گڈ ٹو سی یو‘ والا دور واپس نہیں آئے گا، طلال چودھری
سابق وزیر نے یہ بھی کہا کہ لیبر فورس سروے پی ٹی آئی دور میں ہی بند کر دیا گیا جبکہ عدلیہ کو آئین کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا، بعض معاملات میں وہ بھی ناکام رہتی ہے۔
دانیال عزیز نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے لوکل سطح پر عوامی اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں نے یونین سطح پر آرٹیکل 1408 پاس کیا۔





