پشاور : مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا حکومت کی گندم ریلیز پالیسی پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے صوبے کے عوام کو آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فائدہ پہنچے گا اور پنجاب و سندھ کی اوپن مارکیٹ میں بھی آج نرخ کم ہو گئے ہیں۔
مزمل اسلم نے واضح کیا کہ ملک میں گندم اور آٹے کا بحران بنیادی طور پر پنجاب حکومت کی وجہ سے پیدا ہوا، کیونکہ ملکی گندم کا زیادہ تر انحصار پنجاب اور سندھ پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے پر غیر قانونی پابندیاں عائد کیں، جو آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی ہیں، جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتیں 10 سے 12 فیصد زیادہ بڑھ گئیں۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ صوبے میں گندم کی فی من قیمت 5 ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے اسٹرٹیجک زخائر سے 136 میٹرک ٹن گندم ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اقدام کے تحت 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2220 روپے مقرر کی گئی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سرکاری آٹے کے تھیلوں پر گرین سٹیمپ لگایا جائے گا تاکہ عوام آسانی سے سستے آٹے تک رسائی حاصل کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے گرین لینڈ معاملے پر یورپ پر ٹیرف کی دھمکی واپس لے لی
نئے نرخوں کے مطابق عوام اب 125 روپے فی کلو کے بجائے صرف 104 روپے فی کلو میں آٹا حاصل کر سکیں گے، جس سے عام شہریوں کو روزمرہ کی ضروریات میں ریلیف ملے گا۔
مشیر خزانہ نے زور دے کر کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
مزمل اسلم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری آٹے کے تھیلوں کا استعمال کریں اور غیر سرکاری یا مہنگے ذرائع سے خریداری سے گریز کریں تاکہ سب کو فائدہ پہنچے۔





