ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے فیصلہ کن موقف پیش کر دیا

اسلام آباد: انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کر دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں ایمان مزاری نے کہا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں اور کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹیں گی، چاہے اس کے لیے جیل جانا پڑے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا اور کسی بھی موقف پر ندامت یا پچھتاوا نہیں ہے۔

دوسری جانب ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ وہ خود کو بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے لیڈران کے سامنے سرینڈر کر چکے ہیں اور انہی کے پاس رہیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جس نے غیر قانونی طور پر گرفتار کرنا ہے، وہ انہیں یہاں ہی گرفتار کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق دونوں وکیلوں کو گواہوں پر جرح کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا ہے، اور اگر وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : عدالت کا ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا حکم

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

سماعت کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔

جج نے ملزمان کی عدم پیشی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان سمندر پر ہوں یا آسمان پر انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جائے، عدالت کو ہر صورت وارنٹ کی تعمیل چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ اگر وارنٹ پر عمل نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی، عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا، سماعت کے دوران این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر پیش ہوئے، تاہم ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں حاضر نہ ہوئے۔

سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاہم وہ ایڈریس پر موجود نہیں تھے اور جان بوجھ کر روپوش ہیں۔

Scroll to Top