پشاور: خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے آج معدنیات ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے قیام کے لیے ایکٹ کی منظوری دے دی۔
یہ کمپنی صوبے میں معدنی وسائل کی منظم تلاش اور ترقی، سرمایہ کاری میں سہولت، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کابینہ سے خطاب میں بتایا کہ کمپنی کا بنیادی مقصد معدنیات کی پروسیسنگ، متعلقہ سہولیات، اور ویلیو ایڈڈیشن کے ذریعے صوبے کی اقتصادی ترقی کو بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی معدنی قدر کی زنجیر کے شفاف اور مؤثر انتظام کو یقینی بنائے گی، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرے گی اور غیر قانونی مائننگ کی روک تھام کرے گی۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق کمپنی محکمہ کو تکنیکی اور پراجیکٹ مینجمنٹ سپورٹ بھی فراہم کرے گی، معدنیات پر مبنی انفراسٹرکچر تیار کرے گی اور صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمپنی صرف صوبائی حکومت کے ماتحت کام کرے گی، جیسا کہ دیگر پبلک سیکٹر کمپنیاں (PEDO اور KpOGCL) کرتی ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ کمپنی کے قیام کے لیے باقاعدہ بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اور صوبائی حکومت وسیع پیمانے پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مائننگ کے منصوبے بھی چلائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلی سہیل آفریدی کے زیرصدارت کابینہ کا اجلاس، فیصلوں کی تفصیلات جاری
اسی دوران وزیر اعلیٰ نے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کی واپسی کے حوالے سے بھی تفصیل دی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے دہشت گرد قیدیوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث واپسی کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، اور اس صورتحال سے صوبے میں سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کابینہ کو ہدایت دی کہ صوبائی حکومت معدنیات کے شعبے اور سیکیورٹی دونوں محاذوں پر مؤثر اقدامات جاری رکھے، تاکہ ترقی اور عوام کی حفاظت دونوں یقینی بنائی جا سکیں۔





