نوشہرہ: نظام پور پیران میں معمولی تنازع کے دوران بھائی کی فائرنگ سے چھوٹا بھائی جاں بحق ہو گیا۔
واقعے کے حوالے سے والدہ نے بتایا کہ معمولی بات پر ہونے والی زبانی تکرار مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئی۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت احمد علی کے نام سے ہوئی، جو تقریباً 6 روز قبل ہی شادی کے بندھن میں بندھا تھا۔ واقعے کے فوری بعد ملزم احمد علی کا بڑا بھائی شفاقت شاہ، جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔
پولیس نے بتایا کہ مقتول کی لاش قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دی گئی ہے تاکہ پوسٹ مارٹم کے بعد قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
حکام نے مزید کہا کہ فرار ملزم کی تلاش کے لیے سیکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس سرگرم ہیں۔
یہ واقعہ خاندان کے اندرونی جھگڑے کی خطرناک شدت کو ظاہر کرتا ہے، اور مقامی رہائشیوں میں تشویش کا سبب بنا ہے۔
پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملات کو پرامن طریقے سے حل کریں اور کسی بھی قسم کے تشدد سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: بینک میں فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ قتل، ملزمان فرار
یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاورکے علاقے بازید خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے نجی بینک میں گھس کر فائرنگ کی اور ایک سیکیورٹی گارڈ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق واقعہ تھانہ انقلاب کے حدود میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے بینک کے عملے کو یرغمال بنایا اور بعد میں فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد قاتل مقتول کے ساتھ موجود سکیورٹی کمپنی کا پستول بھی لے کر موٹر سائیکل پر فرار ہوئے۔
نجی بینک کی بازید خیل برانچ کے منیجر ذوالفقار ولد غلام سرور نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز عملے کے ہمراہ بینک میں موجود تھے کہ اس دوران تین مسلح افراد اندر داخل ہوئے اور اسلحے کی نوک پر دونوں سیکیورٹی گارڈز اور عملے کے دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے دھمکی دی کہ ان کا بینک کی رقم سے کوئی لینا دینا نہیں، لیکن اسی دوران انہوں نے فائرنگ کر کے سیکیورٹی گارڈ محمد شیر ولد چراغ شاہ کو قتل کر دیا۔
دوسرا گارڈ نور حیدر خوف کے باعث حرکت نہ کر سکا۔پولیس نے منیجر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔





