افغان مہاجرین کا سلسلہ بدستور جاری، اب تک کتنے واپس لوٹے؟ رپورٹ سامنے آگیا

پشاور: 22 جنوری 2026 کو جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں کے باوجود خیبر پختونخوا کے طورخم بارڈر کے راستے 1882 افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجا گیا ہے۔

ان میں 1142 افراد پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہولڈرز، 206 افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز اور 534 غیر قانونی تارکین وطن شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق تورخم بارڈر سے کل 1142 افراد نے پروف آف رجسٹریشن (POR) کے تحت افغانستان واپسی کی، 206 افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز (ACC) واپس گئے جبکہ 534 غیر قانونی افراد کو روک کر واپس بھیجا گیا۔

اس کے علاوہ گزشتہ مجموعی اعداد و شمار کے مطابق تورخم سے اب تک 241,258 افراد افغانستان لوٹ چکے ہیں، جب کہ 73,616 افراد افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کے طور پر واپس گئے اور 682,956 غیر قانونی افراد کو سرحد پر روکا گیا ہے۔

دوسری بارڈر پوسٹس انگور اڈہ، خارہ لاچی اور سوست بارڈر (چین) سے بھی ریپٹریشن کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جہاں غیر قانونی داخلے کے واقعات درج ہیں۔

اسلام آباد، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور سندھ سے بھی ریپٹریشن کے اعداد و شمار رپورٹ میں شامل ہیں، جہاں غیر قانونی داخلے کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پشاور ٹرانزٹ پوائنٹ سے 26 افراد افغانستان واپس بھیجے گئے جبکہ 54 غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : شیخ وقاص نے سہیل آفریدی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے افغانستان سے کے پی میں دہشتگردوں کی آمد کا اعتراف کر دیا

صوبہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 1116 رضا کار، 206 واپس جانے والے اور 473 غیر قانونی افراد کی شناخت اور ڈی پورٹیشن کی گئی۔

خیبر پختونخوا کے حکام نے کہا ہے کہ سرحدی نگرانی میں سختی کے ذریعے غیر قانونی داخلے پر قابو پایا جا رہا ہے، جس سے انسانی سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد مل رہی ہے۔

شدید موسمی حالات کے باوجود سرحدی عملے کی یہ کارکردگی صوبے کی سیکیورٹی کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔

Scroll to Top