اسلام آباد: سینئر صحافی و اینکر بتول راجپوت نے پی ٹی آئی کے 8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اب پارٹی کی جانب سے احتجاج کی کال کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے ایک سینئر قائد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قیادت یہ کہتی ہے کہ اگر لوگ احتجاج میں شریک ہوں تو انہیں ہر ہفتے اڈیالہ جیل نہ جانا پڑے۔
بتول راجپوت نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت مقامی عہدیداروں کو یہ ذمہ داری دیتی رہی ہے کہ وہ ہر منگل کے روز 30-40 افراد کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب عوام اس کال پر باہر نکلنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور احتجاج کو سنجیدہ نہیں لیتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ عوام نے پارٹی کی کالز کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے، اور اس کا اثر احتجاجی حکمت عملی پر پڑ رہا ہے۔
سینئر صحافی نے پی ٹی آئی کے ممکنہ مذاکرات پر بھی روشنی ڈالی اور رانا ثناء اللہ کے موقف کا حوالہ دیا۔ بتول راجپوت کے مطابق پاکستان میں ہر انتخابات کے دوران کچھ نہ کچھ مسائل ہوتے ہیں، جیسے 2018 اور 2024 میں دیکھے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل نکالا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا بے نقاب،حقیقت سامنے آگئی
بتول راجپوت نے سوال اٹھایا کہ رانا ثناء اللہ اور پی ایم ایل این کی قیادت کیا الیکشن میں دھاندلی کے اعتراف پر تیار ہیں اور کیا وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
ان کے مطابق اگر حقیقت یہی ہے تو پارٹیوں کو مذاکرات کے عمل میں آگے بڑھنا چاہیے۔
بتول راجپوت کے بیان سے یہ واضح ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی اقدامات اور پارٹی کی اندرونی حکمت عملی عوام اور میڈیا کے سامنے زیرِ بحث ہیں، اور اس سے پارٹی کی مقبولیت اور سیاسی اثرات پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔





