ایران میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں، منشیات کے مقدمات میں پھانسی اور ملک بدری میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں جس کے دوران منشیات کے مقدمات میں سزائے موت اور ملک بدری کے عمل میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
افغان جریدہ افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی قزوین جیل میں سات قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی، جن میں زیادہ تر غیر قانونی افغان مہاجرین شامل تھے۔
سزائے موت پانے والے قیدیوں میں سے ایک کی شناخت خیراللہ گلجانی کے نام سے کی گئی ہے، ایرانی عدلیہ نے انہیں منشیات کے مختلف مقدمات میں جرم ثابت ہونے پر سزا دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز نے دو سال قبل ایک افغان شہری کو منشیات کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 2025 میں ایران میں غیر قانونی اور سنگین جرائم میں ملوث 85 افغان شہریوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔
ایران میں افغان مہاجرین کی غیر قانونی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ملک بدری کے عمل میں بھی تیزی آ گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق، روزانہ ہزاروں غیر قانونی افغان مہاجرین ایران سے ملک بدر کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں انتشار پھیلانے کی کوششیں، بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ اور افغانستان سے جڑے سوشل میڈیا سیلز بے نقاب
عالمی سطح پر بھی افغان منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس تشویش کا باعث بنے ہیں، حال ہی میں برطانیہ نے منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افغان گینگ کے ارکان کو ملک بدر کر کے بیلجیم کی جیل میں منتقل کیا ہے۔
افغان مہاجرین کے خلاف ایران کی یہ سخت پالیسی اور طالبان رجیم کی پشت پناہی میں سرگرم افغان نیٹ ورکس اب محض علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خطرہ بن چکے ہیں۔





