پھولوں کا شہر یا تالاب؟ پشاور میں بارش کے بعد نالے ابل پڑے، مصروف چوک پانی میں ڈوب گئے

پشاور میں بارش نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا، نالے ابل پڑے، اسمبلی چوک تالاب میں تبدیل ہو گیا۔

خیبرپختونخوا میں 13 سالہ حکومت کے بعد بھی صوبائی دارالحکومت کی حالت زار میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔

اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ صرف حکومتی وزرا، مشیروں اور دیگر ارکان کی بڑھتی ہوئی سرکاری مراعات میں ہے۔

پشاور جسے کبھی پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا آج معمولی بارش کے بعد ہی نالوں کے ابلنے اور پانی میں ڈوبنے کی شکایتیں سامنے آرہی ہیں۔

باچا خان چوک اور اسمبلی چوک جو شہر کے مصروف ترین مقامات ہیں اور جہاں ٹریفک کا دباؤ سب سے زیادہ ہوتا ہے، بارش کے پانی میں تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

رات کی شدید بارش نے شہر کے نکاس آب کے نظام کی کمزوری واضح کر دی اور اب باچا خان چوک سے اسمبلی چوک تک کے راستے پر سیکڑوں میٹر تک پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ٹریفک شدید متاثر ہو رہی ہے۔

یہ فوٹیج 2022 کی ہے، جس میں پشاور کی اہم شاہراہ پر انڈر پاس کے اوپر بارش کا پانی کھڑا اور نالہ ابلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتظار ختم! پشاور میں رحمت کی بارش شروع،موسم بدل گیا، سردی کی لہر میں نمایاں اضافہ

شہریوں نے حکومت کی نااہلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی سی بارش میں شہر کے اہم چوک تالاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس سے روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

یہ صورتحال صوبائی حکومت کی عدم توجہ اور بنیادی ڈھانچے کی خرابی کو نمایاں کرتی ہے جس نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

Scroll to Top