پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور پشاور کے بلور خاندان کی رکن ثمر ہارون بلور نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
سینئر صحافی عمار مسعود کے ساتھ ایک انٹرویو میں ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں دو مرتبہ شہداء کی لاشیں آئیں اور تحقیقات میں ان حملوں کے تانے بانے افغانستان سے جا کر ملے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی اور محمود اچکزئی دہشتگردی کے ثبوت مانگتے ہیں تو مجھ سمیت وار آن ٹیرر کے 85 ہزار شہداء کی بیواؤں کو بلا لیں۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ شہداء کی پولیس رپورٹس اور سی ٹی ڈی کی تحقیقات دیکھ لی جائیں، ہمیں یہی بتایا گیا کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور وہیں فرار ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے حقائق کو جھٹلانے کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ سب سے زیادہ قربانیاں خیبرپختونخوا کے عوام نے دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کا دہشتگردی میں کردار بے نقاب! بھارت کیساتھ بڑھتے تعلقات نے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کر دیا
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔
آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں شیخ وقاص اکرم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے افغانستان سے متعلق بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں افغانستان کی جانب سے دراندازی ہوتی ہے اور دہشتگرد وہاں سے منظم گروہوں کی صورت میں داخل ہوتے ہیں۔





