خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کرنے کی بجائے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اور دہشت گردوں کو بھتہ بھی دیتی ہے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتےہوئے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ اس وقت تین افراد کا ٹولہ خیبرپختونخوا کو چلا رہا ہے اور صوبے میں کرپشن کی بھرمار ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ گزشتہ 13 سال سے زیادتی ہو رہی ہے اور اب اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عمران خان نے کہا کہ یہ یوم فتح ہے اور طالبان کو پاکستان لانے والے سہولت کار بھی پی ٹی آئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کو سٹریٹ مارچ کر رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا میں ان کا مینڈیٹ ہے اور دو سال میں انہوں نے کوئی تعلیمی ادارہ یا ڈسپنسری نہیں بنائی، باقی صوبے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن خیبرپختونخوا نے ریورس گیئر لگا دیا ہے۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے فاٹا ریفارمز کے پیسوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت بھی عمران خان کی تھی، این ایف سی کے ممبرز میں ان کے لوگ شامل تھے، مگر وہ کچھ نہیں کر سکے۔
مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام وسائل وفاق کے خلاف استعمال کر رہی ہے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آ رہی، انہوں نے کہا کہ صوبے کا کوئی بھی شخص امن جرگے میں شامل نہیں ہوا۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے خیبرپختونخوا کو 800 ارب روپے ملے لیکن اب بھی صوبے میں نہ سی ٹی ڈی، نہ فارنزک لیب اور نہ سیف سٹی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں حالات دن بہ دن خراب ہو رہے ہیں اور سردیوں میں آپریشن مشکل ہونے کے باوجود راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع خیبر، تیراہ سے انخلاء کی منظوری صوبائی کابینہ نے دی، چار ارب روپے کی بھی منظوری دی گئی تھی، ثمر ہارون بلور کا انکشاف
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر زور دیا کہ وہ صوبے کے امن پر توجہ دیں اور پوری قوم کو متحد کریں۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دشمن کے مقابلے میں کم اثر نہیں ڈال رہی بلکہ قوم میں تقسیم پیدا کر رہی ہے۔





