پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے کو اس وقت دہشتگردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میدان میں شدید برفباری کے باعث عوام کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات پر صوبائی وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالغنی کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں مختلف اضلاع کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
شدید برفباری کے باعث بعض علاقوں میں نقل مکانی ناگزیر ہوئی، لیکن صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور عوام کو مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ دہشتگردی اور ملٹری آپریشنز کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کے پندرہ نکات پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر دستخط کیے، تاہم بعض فیصلے بند کمروں میں مسلط کیے جا رہے ہیں، جس سے صوبائی حکومت کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ باجوڑ میں ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی کے تمام اخراجات صوبائی حکومت نے برداشت کیے، اور صوبائی حکومت کارکردگی اور گڈ گورننس کے حوالے سے کسی بھی فورم پر موازنہ کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حیدرآباد کے قریب مہران ہائی وے پر افسوسناک واقعہ، 8 جانیں چلی گئیں
انہوں نے الزام تراشی کرنے والے عناصر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ وہ جو فارم 47 کے ذریعے اسمبلی میں آئے ہیں، مستعفی ہوں۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی واضح ہے، اور کرپشن کے حقائق آئی ایم ایف کی رپورٹس میں بھی نمایاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسروں پر الزامات لگانے سے قبل وفاق پر قابض جماعت کو 5300 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا جواب دینا ہوگا۔





