حکومت نے قومی شناختی نظام میں اہم اصلاحات کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت موجودہ فنگر پرنٹ پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی نظام کو مرحلہ وار جدید فیس ریکگنیشن سسٹم سے تبدیل کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد شہریوں کی شناخت کے عمل کو زیادہ محفوظ بنانا اور مالیاتی فراڈ کے واقعات میں کمی لانا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق گزشتہ برسوں میں جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے متعدد فراڈ کے کیسز سامنے آئے، خصوصاً سم کارڈ کے اجراء اور مالی لین دین میں، جس سے قومی شناختی نظام میں اصلاحات کی ضرورت واضح ہو گئی۔
نادرا کا بایومیٹرک فنگر پرنٹ سسٹم طویل عرصے سے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر سرکاری اداروں میں شناخت کی تصدیق کا بنیادی ذریعہ رہا،لیکن جرائم پیشہ افراد نے اس نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی یا کلون شدہ فنگر پرنٹس استعمال کیے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ فنگر پرنٹ پر مبنی تصدیق کو سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ختم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جعلی فنگر پرنٹس کے استعمال سے مالی فراڈ کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے شہریوں کی شناخت اور مالی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا۔
وزارت داخلہ کے مطابق نئے فیس ریکگنیشن سسٹم سے تصدیقی عمل زیادہ تیز، درست اور شفاف ہوگا۔ اس نظام کو نادرا، بینکنگ سیکٹر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، جس سے جعلی شناخت اور غیر مجاز مالی لین دین کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
اس فیصلے پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین نے اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے شہریوں کی پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ پر زور دیا۔
حکام نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ فیس ریکگنیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے جامع قانونی اور تکنیکی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جس کی منظوری کے بعد اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔





