بی ایل اے دہشت گرد حملہ آور افغان فوج کے اسلحے سے لیس تھا، سوالات اٹھنے لگے، ہتھیار کہاں سے آئے؟

حالیہ دنوں میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کے پاس امریکی فوجی سامان کے ساتھ حملہ کرنے کی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں جس پر بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

گزشتہ روز بی ایل اے کے ایک دہشت گرد حملہ آور کو امریکی فراہمی والے افغان فوج کے اسلحے کے ساتھ دیکھا گیا جس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گرد حملہ آور کے پاس جو اسلحہ تھا وہ امریکی فوج کی جانب سے افغان فوج کو فراہم کیا جانے والا سامان تھا، جس میں جدید رائفلز، گرینیڈ لانچر، نائٹ ویژن گگلس اور ایمنگ لیزر شامل تھے۔

یہ اسلحہ اتنا جدید اور مہنگا ہے کہ اس کی قیمت کئی لاکھ پاکستانی روپے تک پہنچتی ہے، اگر یہ بی ایل اے دہشت گرد غربت کا شکار اور غربت کی وجہ سے لڑنے والے ہیں، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے پاس اتنے مہنگے اور جدید ہتھیار کہاں سے آئے؟

ایک تخمینہ کے مطابق 100 بی ایل اے دہشت گردوں کے پاس موجود اسلحہ کی مجموعی قیمت 3.5 کروڑ پاکستانی روپے تک پہنچتی ہے۔

اب یہ سوالات بھی اٹھتے ہیں کہ کیا یہ دہشت گرد واقعی غربت سے لڑنے والے ہیں یا ان کے پیچھے کسی بیرونی قوت کا ہاتھ ہے؟

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، بلوچستان میں بی ایل اے کا صفایا، 48 گھنٹوں میں 145 دہشتگرد ہلاک

کیا کوئی بیرونی قوت ان دہشت گردوں کو یہ جدید اسلحہ فراہم کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا یہ اسلحہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بیرونی مدد یا سازش کا حصہ ہے؟

یہ نئے انکشافات بی ایل اے کی معاونت اور حمایت کے ممکنہ ذرائع کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس پر حکومت اور سیکیورٹی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔

Scroll to Top