پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیراہتمام پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کامیابی سے مکمل

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیراہتمام پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کامیابی سے مکمل

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون کا انعقاد کر کے ابھرتی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا

تفصیلات کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) ملک میں جدید علوم بشمول آئی ٹی اور ابھرتی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں پی اے ای سی نے پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون کا انعقاد کیا، جس کا مقصد نوجوان سائنسدانوں اور محققین میں جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے کوانٹم الگورتھمز تیار کرنا تھا۔

تقریب میں خطاب:
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے تقریب سے خطاب میں کوانٹم ٹیکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ’’کوانٹم ٹیکنالوجی تیزی سے ایک تبدیلی کی قوت بنتی جا رہی ہے جو کل کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کا مقصد روایتی کمپیوٹنگ سسٹمز کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔‘‘

ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیزرز اینڈ آپٹرانکس، ڈاکٹر منظور اکرم نے بھی ایونٹ کے اہداف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہیکاتھون کا مقصد ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگاہی پیدا کرنا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے جدید الگورتھمز تیار کرنا تھا۔

ایونٹ کی جھلکیاں:
ہیکاتھون میں مختلف ٹیموں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران ایک ٹیم نے کوانٹم الگورتھمز استعمال کرتے ہوئے ٹی بی کی جلد تشخیص کے لیے حل تیار کیا، جس کے لیے انہیں 8 لاکھ روپے کا پہلا انعام دیا گیا۔

شرکاء کا عزم:
ایونٹ کے اختتام پر شرکاء نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سائنسی مہارت کو فروغ دینے اور ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانے کا عزم دہرایا۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اقدامات سے ملک میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کو تقویت مل رہی ہے، اور نوجوان محققین کو عالمی معیار کی تحقیق میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top