پشاور ہائیکورٹ نے دو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صوبے کے عدالتی نظام میں شفافیت اور جوڈیشل اکاؤنٹیبلٹی پر زور دینے کی کوششیں مزید نمایاں ہو گئیں ہیں۔
عدالت کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مدثر شاہ ترمزی کو عہدے سے برطرف کیا گیا جبکہ شیخ افضل کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ دونوں جوڈیشل افسران کے خلاف انکوائری مکمل ہونے کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق، دونوں ججز کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف سخت فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حافظ نسیم اکبر نے بھی خود ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس سے عدالتی افسران کے رویے اور شفافیت کے اصولوں پر عمل درآمد کا ایک پیغام بھیجا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے اس اقدام کو عدالتی شفافیت اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عدالتی افسران کی ذمہ داریوں اور رویے پر عوام اور قانونی حلقوں کی نظر مزید بڑھ گئی ہے۔





