واشنگٹن: امریکی حکام نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے کی حکمتِ عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے، تاہم امریکی حکام کو ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی اور عالمی تیل کی منڈیوں میں عدم استحکام کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق یہ حکمتِ عملی پہلے وینزویلا کے خلاف استعمال کی گئی تھی، جہاں امریکی حکام نے تیل فراہم کرنے والے کئی جہازوں کو ضبط کیا تھا۔ اسی سلسلے میں ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی جہازوں کو ضبط کرنے کی صورت میں تہران کی جانب سے شدید ردعمل متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی تیل کی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکا نے گزشتہ دو ماہ کے دوران وینزویلا کو تیل فراہم کرنے والے کئی جہاز ضبط کیے۔ اسی دوران ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو بھی ضبط کرنے کے اقدامات سامنے آئے۔یہ اقدام ایران پر دباؤ ڈالنے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بڑے تبادلے، اہم افسران کی نئی تعیناتیاں
سابق امریکی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ حکمتِ عملی ایران پر دباؤ ڈال سکتی ہے، لیکن خطے میں کشیدگی بڑھنے اور عالمی توانائی منڈی میں اثرات کے خدشات موجود ہیں۔
تیل کی عالمی قیمتیں پہلے ہی عالمی سیاسی کشیدگی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں، لہٰذا اس اقدام کے منفی اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔





