اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جاری دھرنا اچانک ختم کر دیا گیا، جس کے بعد منسٹرز انکلیو، ججز کالونی اور پنجاب ہاؤس جانے والے تمام راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق دھرنے کے شرکا سڑک سے اٹھ کر خیبرپختونخوا ہاؤس کے احاطے میں چلے گئے، جس کے بعد علاقے میں معمولات زندگی بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈرز کی قیادت میں ارکان دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ لاجز میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کا الگ احتجاج جاری ہے۔ پارلیمنٹ لاجز کا کیفے ٹیریا بند ہونے کے باعث ارکان کو کھانے پینے میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
دھرنے میں شریک ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ بانی تحریک انصاف کی اسپتال منتقلی تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری اور بلا تاخیر اسپتال منتقل کیا جائے۔
ادھر حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ میڈیکل ٹیم نے اپنی رپورٹ تیار کر لی ہے، جو آج حکومت کو بھجوائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق علاج کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بینائی میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔ آنکھوں کا معائنہ دو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل پینل نے کیا، جس میں الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز کے ڈاکٹر محمد عارف شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ 24 اور 25 جنوری کی رات کیے گئے پروسیجر اور انجیکشن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور بینائی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ ترین میڈیکل رپورٹ سے اپوزیشن قیادت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے اور دو رہنماؤں کو علاج میں پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔





