تحریک انصاف کے دھرنوں کا سلسلہ چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی اسلام آباد اور مختلف شہروں میں احتجاج میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے صوبے میں حکومتی امور بھی مکمل طور پر ٹھپ ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چار روز سے جاری دھرنوں کی وجہ سے کئی اہم سرکاری فائلیں وزیر اعلیٰ کے دستخط کی منتظر ہیں جبکہ وزراء کی مصروفیت کے باعث شہریوں کے سرکاری کام بھی متاثر ہوئے ہیں۔ سڑکیں بند ہونے اور دھرنوں کی وجہ سے اشیاء خوراک کی ترسیل میں بھی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس بھی وزیر اعلیٰ اور دیگر ارکان کی دھرنوں میں مصروفیت کے باعث 16 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔ اس سے قبل 13 فروری کو ہونے والا اجلاس بھی ملتوی کیا گیا تھا۔ رات گئے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں یہ بات واضح کی گئی کہ حکومتی ارکان کے دھرنوں میں مصروف ہونے کے باعث اجلاس ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کا احتجاج بانی چیئرمین کے میڈیکل چیک اپ کروانے کے مطالبے کے تحت جاری ہے، جس میں اپوزیشن نے اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں دھرنے دیے ہوئے ہیں۔ حکومتی ارکان کی غیر موجودگی کے باعث صوبے کے انتظامی اور سرکاری کام متاثر ہو رہے ہیں، جس سے عام شہریوں کی زندگی پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔





