خیبرپختونخوا میں رمضان پیکج کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کا معاملہ عدالت میں پہنچ گیا

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج اور سڑکیں بند کرنے پر شدید اظہار برہمی

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور سڑکیں بند کرنے کے اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخواہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری دھرنے اور سڑکوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے اس دوران صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کی کہ سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کتنی قانونی کارروائی کی جا چکی ہے۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور کیا کارروائی عمل میں آئی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیٹا مرتب کرنے میں وقت لگے گا، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پرانے مقدمات کی تفصیلات کی ضرورت نہیں، بلکہ حالیہ دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چوتھا روز ہے اور صوبے کے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لوگ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے کارروائی فوری ہونی چاہیے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت سماعت وقفے تک ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔

واضح رہے کہ کئی دنوں سے خیبرپختونخوا کے داخلی و خارجی راستوں پر پی ٹی آئی دھرنوں کے باعث عام شہریوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس نے عوام میں سخت ردعمل پیدا کیا ہے۔

Scroll to Top