فاٹا پاٹا انڈسٹری کے تاجر اور مزدور سڑکوں پر آ گئے، روزگار کے تحفظ کے لیے احتجاج

پشاور میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے ریجنل ٹیکس آفس کے باہر فاٹا پاٹا انڈسٹری سے وابستہ تاجروں اور مزدوروں نے احتجاج کیا۔

مظاہرین نے آر ٹی او کے خلاف نعرے بازی کی اور روزگار کے تحفظ کا مطالبہ کیا، احتجاج کی قیادت امیر تاجر تنظیم کے رہنما ملک مہر الٰہی کر رہے تھے۔

مظاہرین نے پے آرڈرز (ضمانتی مچلکوں) کی انکیشمنٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی مزدوروں کو بے روزگار نہ کیا جائے۔

مظاہرین نے فاٹا پاٹا انڈسٹری کے خلاف اقدامات کو معاشی قتل قرار دیا اور فوری ریلیف پیکیج کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے چیف کمشنر کی فوری تبدیلی، خام مال کی کلیئرنس میں تاخیر اور کوٹا و قیمتوں کے مسائل کے فوری حل کا بھی مطالبہ کیا۔

مزید بتایا گیا کہ سیکڑوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں ہے اور سرمایہ کاری رکنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مزدوری کریں یا لائن میں لگیں؟ سی این جی بندش نے خیبرپختونخوا کے شہریوں کو مشکل میں ڈال دیا

مہنگی بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کی وجہ سے انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہے۔

سی پورٹ سے دوری کی وجہ سے اضافی لاگت بھی پیدا ہوئی، جس کے لیے خصوصی مراعات دی جائیں۔

مظاہرین نے کہا کہ ملک کے بڑے صنعتی شہروں کے ساتھ براہِ راست موازنہ نہ کیا جائے اور اگر معاشی دباؤ برقرار رہا تو امنِ عامہ کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔

Scroll to Top