شہباز گل اور عمران ریاض باہر بیٹھ کر پیسہ کمار ہے ہیں اور ہمیں غدار کہتے ہیں ، علی امین گنڈا پور یوٹیوبرز پر برس پڑے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو لڑنے اور مرنے کا کہتے ہیں جبکہ خود بیرون ملک بیٹھ کر پیسہ کماتے ہیں۔ انہوں نے شہباز گل اور عمران ریاض خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ باہر بیٹھ کر پیسہ کما رہے ہیں اور انہیں غدار کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی باہر آئے تو سوشل میڈیا سمیت پارٹی کے کئی لوگوں کی “منجی ٹھوک” دیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت سے بانی کی شرائط پر مذاکرات ہو رہے تھے اور حکومت کافی حد تک ان شرائط کو مان بھی چکی تھی، حتیٰ کہ ٹی او آرز بھی تیار ہو چکے تھے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی بہنوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ بانی پی ٹی آئی کو باہر آنے دیا جائے، کیونکہ گالم گلوچ اور منفی مہم سے بانی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ 5 اکتوبر کے بعد بانی کی شرائط پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوئے جبکہ 25 نومبر کو بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی سے ملاقات کے بعد پیغام دیا کہ سنگجانی پر رک جائیں، تاہم اس ہدایت پر عمل نہ کیا گیا جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بانی نے مذاکرات کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مینڈیٹ دیا ہے۔ ان کے مطابق محسن نقوی نے بھی بانی کی رہائی کے لیے مذاکرات میں بھرپور کوشش کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر مختلف گروپس موجود ہیں جو ایک ایجنڈے کے تحت منفی مہم چلاتے اور بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ بانی کی فیملی کو سیاسی فیصلوں کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر کہا بانی کو باہر آنے دیں، گالم گلوچ اور منفی مہم سے نقصان ہوگا، علی امین گنڈا پور

علی امین نے کہا کہ اگر بانی رہا نہ ہو سکے تو وہ خود بھی اپنی غلطی تسلیم کریں گے، تاہم اصل قصور ان لوگوں کا ہے جنہیں بانی نے ذمہ داریاں دیں اور وہ ڈیلیور نہیں کر سکے۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور دعا ہے کہ اللہ ان کے ذریعے بانی کی رہائی کا راستہ نکالے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب بانی کی رہائی کے لیے بڑے جلسے کیے جا رہے تھے، لیکن اب ملاقات اور علاج کے لیے منت سماجت کرنی پڑ رہی ہے۔

Scroll to Top